اس حکومت کے ساتھ کام کریں گے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا: میتھیو ملر

امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں، اس کا جائزہ لیتے رہیں گے، اس حکومت کے ساتھ کام کریں گے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا، دھندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملرنے ہفتہ وارپریس بریفنگ میں کہا کہ انتخابی عمل میں بعض بے قاعدگیاں، جن کا ہم نے مشاہدہ کیا، ان کے بارے میں ہم نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے۔میتھیو ملر سے سوال کیا گیا کہ ، ’ دھاندلی کی تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان فاتح بن کر سامنے آئے۔ پاکستانی انتخابات کے بارے میں آپ کا زبانی تجزیہ کیا ہے؟اس بات پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے جواب دیا کہ ، ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم سب سے پہلے پاکستانی عوام کو انتخابات میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان میں انتخابی کارکن، سول سوسائٹی کے ارکان، صحافی اور انتخابی مبصرین شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے جمہوری اور انتخابی اداروں کا تحفظ کیا ۔ ہم نے عوامی طور پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا – ہم نے نجی طور پر بھی ان خدشات کا اظہار کیا اور ایسا کرنے میں یورپی یونین ، برطانیہ اور دیگر ممالک کا ساتھ دیا – کچھ بے ضابطگیوں کے ساتھ جو ہم نے اس عمل میں دیکھی۔ ہم نے پاکستانی حکومت کو انتخابات کی خواہش کا احترام کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔‘صحافی نے سوال کیا کہ، ’ْ آپ نے کہا تھا کہ آپ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ نئی پاکستانی حکومت دھوکہ دہی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے ساتھ آئی۔ آپ کی رائے کیا ہے؟۔اس پر میتھیو ملز نے کہا کہ ، ’مجھے نہیں لگتا کہ ابھی تک کوئی نئی پاکستانی حکومت آئی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ حکومت کی تشکیل کے بارے میں اب بھی بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن ایک بات جو ہم نے انتخابات سے قبل کہی ہے اور ہم یہ واضح کرتے رہیں گے کہ پاکستانی عوام جس کو بھی ان کی نمائندگی کرنے کا انتخاب کریں گے، ہم اس حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اور جہاں تک دھوکہ دہی کے دعووں کا تعلق ہے، ہم ان کی مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں۔‘میتھیو ملر سے سوال کیا گیا کہ، ’آپ نے کہا ہے کہ ابھی تک پاکستان کی کوئی حکومت نہیں ہے، لیکن یقینی طور پر سابق وزیر اعظم عمران خان کا دھڑا جن میں سے کچھ آزاد ہیں، آگے آئے۔ کیا اس بات پر کوئی تشویش ہے کہ جو بھی جلد یا بدیر پاکستان کا لیڈر بنے گا اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟‘میتھیو ملر نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ، ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مداخلت اوردھوکہ دہی کے جو الزامات سامنے آ رہے ہیں ، پاکستان کے قانون کے تحت ان کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ ہم آنے والے دنوں میں اس عمل پر نظر رکھیں گے۔‘پاکستان میں اجتماع پر پابندی عائد کرنے اور عمران خان کےحامیوں کی جانب سے اس پر احتجاج کی کال سے متعلق سوال پر میتھیو ملرکا کہنا تھا کہ ، ’ہم دنیا میں کہیں بھی اجتماع کی آزادی کا احترام کرنا چاہتے ہیں۔‘ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ آزادانہ تحقیقات کے لیے پاکستان قانونی نظام ہی پہلا مناسب قدم ہو گا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہی وہ اقدام ہے جو کرنے چاہئیں، اگرتحقیقات کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں