پنجاب اسمبلی 6 کھرب 17 ارب سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور اپوزیشن کا احتجاج

لاہور (خصوصی نامہ نگار) پنجاب اسمبلی نے مالی سال 2022-23ء کے 6 کھرب 17 ارب 25کروڑ 19 لاکھ 43ہزار روپے کے ضمنی بجٹ کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اسمبلی ملازمین کوایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے تناسب سے اعزازیہ دینے کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی پانچ تحاریک جمع کرائی گئی تھیں جن میں سے صرف تین ایوان میں زیر بحث آ سکیں بقیہ دو گلوٹین کے قانون کا نفاذ کر کے نمٹا دی گئیں۔ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح پی ٹی آئی کی طرح نہیں، پی ٹی آئی نے تعلیم کا بجٹ تین بار کم کیا، تین سال بعد اس بجٹ پر پہنچے جو شہباز شریف پہلے ہی بجٹ دے چکے تھے۔ اپوزیشن اراکین سے درخواست ہے کہ بجٹ کی کاپی کھول کر پڑھ لیں، اگر پڑھنا نہیں آتا تو ساری کتاب پڑھا دوں گا۔ صوبائی وزیر مواصلات صہیب بھرت نے کہا کہ اپوزیشن والے کہتے ہیں سول ورکس اور سکولز بند کر دیں، یہ تو سارے ہسپتال بھی بند کروانے آئے ہیں۔ وزیر آبپاشی کاظم پیرزادہ نے کہا کہ تین ارب بیاسی کروڑ تیس لاکھ ستر ہزار روپے چشمہ کنال کیلئے چاہئیں، قادرہ کنال سمیت دیگر کنال کو ٹھیک کریں گے، پانی قیمتی اثاثہ ہے اس کا درست استعمال قومی ذمہ داری ہے۔ وقاص مان نے کہا کہ زمینداروں اور کسانوں کا مسئلہ ہے کہ کیا حکومت گندم خریدے گی، 62فیصد پنجاب کے کسان گندم سے منسلک ہیں، حکومت کا گندم خریدنے کا کیا پروگرام ہے کیونکہ گندم بالکل تیار ہے۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے کہا کہ نہروں کے راجباہوںکو پکا کروا دیں موگوں اور لنکس کو پکا کروائیں تو پیسوں کی بچت ہوگی۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ضمنی بجٹ کا آڈٹ کروایا جائے۔ رکن اسمبلی صائمہ کنول نے اپنے خطاب میں کہا کہ دن دیہاڑے ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، پولیس بجٹ سے سیر سپاٹے کرتی ہے، دو سو چونتیس اہلکار منشیات فروشوں کی سہولت کاری میں ملوث پائے گئے، کیا عوام کا بجٹ اس لئے پولیس کو دیا جاتا ہے۔ لیگی رکن راجہ شوکت بھٹی نے نکتہ اعتراض پر بانی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں بانی پی ٹی آئی کا نمبر804 تھا اور اب اڈیالہ جیل میں اس کا نمبر 420 ہے جس پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شور شرابا کیا گیا، اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ 804 کا پمفلٹ مائیک سے ہٹا دیں، ایشیا کی سب سے خوبصورت پنجاب اسمبلی بنی ہے اسے خراب نہ کریں، پمفلٹ کو جہاں چاہے دل کرے وہاں لگا دیں لیکن مائیک سے ہٹا دیں۔ اس موقع پر پارلیمانی امور کے وزیر طاہر خلیل سندھونے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس کے1617 اہلکار شہید ہو چکے ہیں، اسی بجٹ سے ان کی امداد کی جاتی ہے، نو مئی کو مسلح جتھوں نے پولیس کے ڈی آئی جی کی آنکھ تقریباً ضائع کر دی تھی۔ اس دوران اپوزیشن اراکین ایک بار پھر اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ صہیب بھرت کی تقریر کے دوران ندیم قریشی اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور ندیم قریشی کو نقطہ اعتراض نہ دینے پر اپوزیشن بنچوں سے نعرے بازی شروع کر دی گئی۔ ڈپٹی سپیکر نے ندیم قریشی کو ڈانٹ پلا تے ہوئے کہا کہ ایوان کا ماحول خراب نہ کریں۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس یکم اپریل کو طلب کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں