کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے: وزیر داخلہ

وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار  نے کہا ہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ ہے مگر اسے بڑھا چڑھا کر بھی پیش کیا جارہا ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھاکہ سندھ میں امن وامان قائم کرکے دکھائیں گے، کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور کچےکے علاقے میں امن وامان کے مسائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملتان سکھر موٹر وے بند نہیں، شکار پور سکھر گھوٹکی کے ایس پیز کو تبدیل کیا ہے، کشمور پولیس کی کچے میں کارروائیاں جاری ہیں، شہید ٹیچر اللہ رکھیو کے رشتہ داروں کو حراست میں لیا ہے اور مرکزی ملزمان کی گرفتاری تک ٹیچر کے رشتہ دار حراست میں رہیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ  یقین دلاتاہوں بالائی سندھ میں امن مکمل بحال کرینگے، پولیس کےجوانوں نے قیام امن کےلیےقربانیاں ہیں، پولیس کا مورال بلند کریں تاکہ کچے میں لڑسکیں جبکہ  گھوٹکی کشمور اضلاع میں ایک ہزار پولیس نفری بھیج رہے ہیں اور ایس ایس یو کےکمانڈوز بھی لگائیں گے۔ کراچی میں ڈکیتوں کی فائرنگ سے ایک اور شہری جان سے گیا کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کا مسئلہ ہے، وہ حالات نہیں جو 2008 سے 2013 تک تھے، اسٹریٹ کرائم کو بڑھاچڑھاکر پیش کیاجا رہا ہے، میڈیا میں بھی یہ معاملہ گرم ہے مگر یہ زندگی کا کاروبار ہے، کاروبار چلتا ہے تو کرائم بھی ہوجاتے ہیں، اسٹریٹ کرئم میں جاں بحق افراد کےاہلخانہ سے دلی ہمدردی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے واقعات ختم کرینگے جہاں واقعہ ہوگا وہاں ایس ایچ او کےساتھ سزا جزا ہوگی اور معاملہ ایس ایچ او تک ہی نہیں رہےگا بلکہ آئی جی کو بتا دیا ہے ایسا میکنزم بنا رہے ہیں ایک تفتیشی افسر کے پاس دس سے زائد مقدمات نہ ہوں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ پراسکیوشن محکمہ کے ایکٹ میں کچھ ترامیم کرنا ہوں گی،  اس سلسلے میں بحثیت وزیر قانون چیف جسٹس سے ملاقات کروں گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی کراچی میں ڈکیتوں نے فائرنگ کرکے ایک شہری کو قتل کیا۔ اس قتل کے بعد رمضان المبارک میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 10 اور رواں سال ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہونے والے افراد کی تعداد 49 ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں