مختلف حلقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار


عام انتخابات 2024 کے لیے مختلف شہروں کے پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ وقت پر شروع نہ ہوسکی۔

اسلام آباد کے این اے 48 شہزاد ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کے آغاز میں تاخیر ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق عملہ پولنگ کے انتظامات میں مصروف رہا جس کے باعث پولنگ کا آغاز 15منٹ تاخیر سے ہوا۔

شہزاد ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹرز بڑی تعداد میں موجود رہی۔

کراچی کے حلقے این اے 250 کے پولنگ اسٹینشن نمبر 262 سے 265 پر بھی پولنگ وقت پر شروع نہ ہوسکی۔

پولنگ اسٹیشن نمبر 262 سے 265 میں پریزائیڈنگ افسر نہیں پہنچ سکے جبکہ پولنگ اسٹیشنز کے باہر ووٹرز کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

پولنگ عملے کا کہنا ہے کہ موبائل فونز نیٹ ورک متاثر ہونے سے رابطوں میں مسائل کا سامنا ہے۔

کراچی کے حلقے این اے 246 اورنگی ٹاؤن کے پولنگ اسٹیشن نمبر 77 میں بھی پولنگ شروع نہ ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق اورنگی ٹاؤن سپر گرامر اسکول کے پولنگ اسٹیشن نمبر 77 میں نہ عملہ پہنچ سکا اور نہ ہی سامان پہنچ پایا ہے۔

پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی اہلکار اور امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ پہنچ گئے ہیں۔

کراچی میں حلقہ این اے 232 ملیر میں پولنگ اسٹیشن نمبر 247 میں بیلٹ باکس سیل نہ ہونے کے باعث پولنگ وقت پر شروع نہ ہوسکی۔

اس پولنگ اسٹیشن پر بیلٹ باکس پولنگ ایجنٹ موجود نہ ہونے کی وجہ سے سیل نہیں ہوسکے۔

کراچی میں این اے 238 کے پولنگ اسٹیشن جوفل ہرسٹ اسکول میں بھی انتخابی عمل پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے باعث شروع نہ ہوسکا۔

خیبرپختونخوا کے علاقے بونیر میں سرد موسم کے باعث مختلف پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ تاخیر کا شکار ہے۔

پولنگ اسٹیشن نمبر 109 گرلز ڈگری کالج ڈگر میں پولنگ ایجنٹ اور ووٹر نہیں پہنچ سکے۔

دوسری جانب میانوالی کے حلقہ این اے 90 میں بھی بیشتر پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ وقت پر شروع نہیں ہوئی۔ یہاں پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے تاخیر سے الیکشن کا سامان ترتیب دیا گیا جبکہ موسم سرد ہونے کے باعث صبح کے وقت ووٹرز کی تعداد بھی کم رہی۔

سوات کے بالائی علاقوں کے کئی پولنگ اسٹیشنز پر بھی پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار رہا۔ گبرال اور مٹلتان کے پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عملہ بروقت نہ پہنچ سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں