انتخابات 2024: ووٹوں کی گنتی جاری، نتائج آنا شروع ہوگئے

ملک بھر میں عام انتخابات کےلیے پولنگ کا عمل مکمل ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی کا عمل بھی شروع ہوگیا جس کے ساتھ ہی پہلا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ بھی سامنے آگیا۔ 

این اے 43:

این اے 43 پر ایک پولنگ اسٹینشن کے نتیجے کے مطابق داور خان کنڈی 701 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر دوسرے نمبر جے یو آئی کے اسد محمود 550 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 46:

این اے 46 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ کے انجم عقیل خان 101 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آزاد امیدوار عامر مسعود مغل 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہے۔

این اے 103:

این اے 103 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد علی سرفراز 530 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ مسلم لیگ (ن) کے حاجی محمد اکرم انصاری 351 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 148:

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 148 کے 5 پولنگ اسٹیشنز پر پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی 522 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار تیمور الطاف ملک 400 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 151:

مسلم لیگ ن کے عبدالغفار 341 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور آزاد امیدوار مہر بانو قریشی 290 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

این اے 157:

این اے 157 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کے سید ساجد مہدی 332 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور بلال اکبر بھٹی 234 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 172:

این اے 172 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امید وار جاوید اقبال وڑائچ 340 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور ن لیگ کے میاں امتیاز احمد 280 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 188:

این اے 188 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے نتیجے کے مطابق ن لیگ کے حفیظ الرحمان خان دریشت 301 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آزاد امید وار سردار احمد خان دریشت 288 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 234:

این اے 234 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار فہیم خان 135 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے معین امیر پیرزادہ 96 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ 

این اے 258:

این اے 258 پر ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق نیشنل پارٹی کے پلائیں 99 ووٹوں کے ساتھ پہلے اور ن لیگ کے میر اسلم بلیدی 89 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ 

پاکستان میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہا، پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عملے نے ذمے داریاں سنبھالیں، پولنگ ایجنٹس کو خالی بیلٹ باکس دکھا کر سیل کر دیے گئے، ووٹرز پولنگ اسٹیشن پہنچے۔ 

ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق پولنگ کا وقت ختم ہونے کے باوجود پولنگ اسٹیشن میں موجود افراد نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

مختلف حلقوں میں جھگڑے، تشدد، فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور کچھ حلقوں میں پولنگ کا عمل ہی روک دیا گیا۔

ملک بھر میں 16 ہزار 766 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے، حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے باہر فوج تعینات کی گئی۔ 

پنجاب میں 5 ہزار 624 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے جن پر فی پولنگ اسٹیشن پر 5 اہلکار موجود تھے جبکہ سندھ میں 4 ہزار 430 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے، یہاں فی پولنگ اسٹیشن پر 8 اہلکار تعینات کیے گئے۔ 

خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 265 حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 9 اہلکار فی پولنگ اسٹیشن پر تعینات کیے گئے جبکہ بلوچستان میں 1047 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں ہر پولنگ اسٹیشن پر 9 اہلکار تعینات کیے گئے۔ 

ووٹ کاسٹ کرنیکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں

الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جاتی رہی جہاں ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئیں۔

صوبائی حلقہ 112 میں ووٹر کی ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، ووٹر نے پولنگ بوتھ میں ووٹ ڈالنے کی مکمل ویڈیو موبائل فون پر بنائی تھی۔

علاوہ ازیں دیگر ووٹرز بھی ووٹ کاسٹ کر کے موبائل سے تصاویر لے کر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔

ووٹرز موبائل فون سمیت ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشن جا رہے ہیں۔

عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کردی گئی۔

ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ امن و امان قائم رکھنے، ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 141 اور صوبائی کی 297 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔

انٹرنیٹ سے زیادہ اہم ووٹ ڈالنا ہے، سربراہ کامن ویلتھ مبصر گروپ

سندھ سے قومی اسمبلی کی 61 اور صوبائی کی 130، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی کی 115 جبکہ بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 اور صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر پولنگ ہو گی۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے ہیں اور الیکشن کے دن ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے 5 لاکھ اہلکار سیکیورٹی کی ذمے داری سنبھالیں گے، پولیس پہلے درجے پر، پھر پیرا ملٹری فورسز اور آخری درجے میں پاک فوج بطور کوئیک رسپانس فورس ذمے داری نبھائے گی۔

پولنگ اسٹیشن پر امن و امان کی صورتِ حال کنٹرول کرنے کے لیے پریزائیڈنگ افسران کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات تقویض کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں