میرے حلقے میں تاریخی ساڑھے 16 ہزار ووٹ مسترد ہوا

شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی نے انکشاف کیا ہے کہ میرے حلقے میں تاریخی ساڑھے 16 ہزار ووٹ مسترد ہوا، پورے پاکستان میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں ووٹ مسترد نہیں ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق این اے 151 ملتان سے 7 ہزار ووٹوں سے شکست سے دوچار ہونے والی پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار مہر بانو قریشی نے کہا ہے کہ اب جو نتائج آ رہے ہیں ان سے متعلق الیکشن کمیشن سے سوال کریں گے۔ جمعہ کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب رات 1 بجے رزلٹ آنا بند ہوا تو سب کو باہر نکال دیا گیا۔ باقی 2 جماعتوں کے امیدوار اندر موجود تھے لیکن مجھے باہر نکال دیا گیا، اس سب کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر پر عائد ہوتی ہے۔ مہر بانو قریشی نے کہا کہ ہم نے ہار کو ہمیشہ دل سے تسلیم کیا ہے لیکن جب ووٹر کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا جائے تو دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے، میرے حلقے میں تاریخی ساڑھے 16 ہزارووٹ مسترد ہوا۔ مہر بانو قریشی نے کہا کہ پورے پاکستان میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں ووٹ مسترد نہیں ہوا، واضح ہے کسی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ایسا کیا جا رہا تھا۔ واضح رہے کہ مہر بانو قریشی کو این اے 151 ملتان کی قومی اسمبلی نشست پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزدے سے تقریباً 7 ہزار ووٹوں سے الیکشن ہار گئیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیر حتمی سرکاری نتائج کے مطابق اب تک کل 266 میں سے 245 نشستوں کے نتائج میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ اب تک جاری کردہ الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار 100 نشستیں جیت گئے، جبکہ 245 قومی اسمبلی نشستوں کے نتائج میں ن لیگ 67 اور پیپلز پارٹی 53 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ای ایم ایس سسٹم پر موصول ہونے والے عام انتخابات 2024ء کے غیر حتمی سرکاری نتائج میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اب تک قومی اسمبلی کا سب سے بڑا گروپ بن کر سامنے آیا ہے، جبکہ 29 سیٹوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق ایم کیو ایم نے بھی 14 نشستوں پر کامیابی سمیٹی ہے، اسی طرح آئی پی پی نے 2، جے یو آئی 2، مسلم لیگ ق 3 اور پختونخواہ نیشنل اور ایم ڈبلیو ایم ایک نشست پر کامیاب ہوئی۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 265 قومی اسمبلی کی نشستوں کے حتمی سرکاری نتائج جاری کیے جانے کے بعد ہی حتمی پارٹی پوزیشن واضح ہو گی۔ الیکشن کمیشن نتائج جاری کرنے کے بعد ہی ہر حلقے کے کامیاب امیدوار کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے عام انتخابات 2024 کے نتائج سے متعلق بڑا دعوٰی کیا ہے۔.

اپنا تبصرہ بھیجیں