پنجاب میں ن لیگ سنگل لارجسٹ پارٹی ہے، اعظم نذیر تارڑ


مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کے پاس 155 نمبر ہیں، ہم سنگل لارجسٹ پارٹی ہیں۔

جاتی امرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خواتین اور اقلیتی نشستوں کے بعد ہمارا نمبر آگے جائے گا، پنجاب میں وزیراعلیٰ کی نامزدگی نواز شریف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مفاہمتی سیاست سے پاکستان کو فائدہ ہوگا، مخلوط حکومت بنانے سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، جو بھی اتحادی جماعتیں ہوں گی ان سے مشاورت کے بعد مرکز کا فیصلہ ہوگا۔

ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ ایک جماعت کو انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں، انتخابی نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تحفظات انہیں بھی ہیں لیکن جس کو جہاں سے مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے میٹھا میٹھا کھا جائیں اور کڑوا کڑوا تھوک دیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے یہ بھی کہا کہ بہت زیادہ شور مچایا جارہا ہے اور عدالتوں میں جانے کا کہا جا رہا ہے، آپ نے 2018ء میں کسی کے کندھے پر بیٹھ کر الیکشن لڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کا خیال تھا کہ سارا کچھ ہی آپ کی جھولی میں آنا ہے، تحفظات ہمیں بھی ہیں لیکن ہم نے مینڈیٹ کو تسلیم کیا۔

ن لیگی سینیٹرکا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پہلے ہی پٹیشنز فائل کرنے کا اعلان کردیں، ہمیں یقین ہے کہ اس ملک میں ایک عدالتی نظام موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کا شیوہ ہے جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کہ سچ لگنا شروع ہوجائے۔

انکا کہنا تھا کہ رانا ثناءاللّٰہ، خواجہ سعد رفیق الیکشن میں کامیاب نہیں ہو پائے، ہم اپنا جو بھی مدعا اور مقدمہ ہے وہ عدالت میں لے کر جائیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 137 نشستیں مسلم لیگ ن کے نامزد امیدواروں کے نام ہیں۔ 9 سے 10 حلقے ہم نے اوپن چھوڑے ہوئے تھے، ہم نے 6 سے 7 حلقے اپنی اتحادی جماعت کےلیے چھوڑے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن سنگل لارجسٹ پارٹی ہے، جن آزاد امیدواروں سے بات ہوگئی ہے، انہیں ملا کر اس وقت ن لیگ کا نمبر 155 ہے۔

ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ پارٹی کے پرانے ساتھیوں نے رابطے کیے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اس وقت کے نتائج قوم کے سامنے ہیں، کسی ایک سنگل پارٹی کے پاس حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک شراکتی اور اتحادی حکومت قائم ہوگی، خواہش ہے کہ ایسا مضبوط الائنس بنے، جس میں مختلف صوبوں، قومیتوں اور اکائیوں کی نمائندگی ہو۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں اکثریتی لیڈرشپ موجود تھی، آج بھی طویل سیشن ہوا ہے، نواز شریف مشاورت کے بہت قائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا خیر سگالی کا دورہ اور ملاقات تھی، اشتراک سے حکومت بنانے پر ایم کیو ایم کی رائے لی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں