’’انٹروپی‘‘ یہ نہ ہوتی تو ٹھنڈی ہوا چلتی نہ دریا بہتے، نیاگرا فال ہوتی نہ فصلیں


اگر آپ کو ذرا سی بھی سائنس کی جانکاری ہے تو آپ کو زندگی برتنے اور اس کو آسان بنانے میں مدد گار مو جودہ دور میں مہیا طرح طرح کی ٹیکنالوجیکل سہولیات کی فراہمی کے لئے سائنس کی عملداری کا ادراک یقیناًہو گا۔ نوع انسانی قدم قدم پر اس علم سے مستفید ہو کر ترقی کے مراحل طے کرتی رہی ہے۔ اس جدید دور میں ترقی اور کامرانی ان کی قدم بوسی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ زندگی کی موجودہ چکا چوند ایسی نت نئی ٹیکنولوجیکل سہولیات کی مرہون منت ہے جن کو روبہ کار لانے کی لئے بھی بنانے والے ادارے کی ہدایت کے مطابق ایک مخصوص ترتیب یا نظم سے استعمال ہوں تو ہی ان سے استفادہ ممکن ہو تا ہے۔

سائنس کا علم بھی فرسٹ لاء آف تھرموڈائنمکس کے ذریعہ جہاں کارگزاری یا کامیابی کو انگریزی کے لفظ ورک سے متعارف کروا کراس کے حصول کے ذرائع میں جہاں مادّہ اور اس سے جڑی توانائی یا انرجی کو اہم قرار دیتا ہے۔ وہاں انتشار یاchaos کو نا کاردکردگی کا مظہر گردانتے ہوئے اور اس کو شناخت دیتے ہوئے اور یہ مانتے ہوئے کہ یہ ہماری زندگی کا لازمی جز ہے نا کار کردگی یا انٹروپی کا تصور متعارف کراتا ہے اسے ایک ابدی حقیقت قرار دیتا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے بھی چونکہ انرجی خرچ ہو تی ہے۔ 

اس لئے سیکنڈ لاء آف تھرموڈائنمکس کے ذریعہ فری انرجی یا وقت ضرورت مہیا توانائی کا تصور سامنے لاتا ہے ۔ یہ وہ توانائی ہے جو مادّےکی مقدار سے جڑی توا نائی انٹر انرجی اور اس کی کسی اور ذریعہ سے ممکنہ حاصل شدہ اضافی توانائی کو شامل کرکے بلند ہو جانے والی توانائی انتھیلپی میں سے انتشار پر قابو پانے والی انرجی کو منہا کر کے متعین کی جاتی ہے۔ 

’’انٹروپی‘‘ یہ نہ ہوتی تو ٹھنڈی ہوا چلتی نہ دریا بہتے، نیاگرا فال ہوتی نہ فصلیں

نا کار کردگی یا انٹروپی اس انتشار کے رجحان کا نام ہے جو قدرت کے اس کارخانہ میں مو جود ہر جمادات سے نباتات تک اور حیوان سے انسان تک کی جبلت کا حصہ ہے جب ہمارا توانائی کا ا سٹروک اتنا قوی نہیں رہتا اور ہم زندگی کی بازی انٹروپی کے سامنے ہار بیٹھتے ہیں۔ اسی لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم دنیا میں موجود مادّی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے توانائی کے خزانہ کو کم نہ ہو نے دیں اپنے وجود سے حاصل توانائی یعنی انٹرنل انرجی کو کام کے ذریعہ تقویت پہنچا کر انتھیلپی کی اتنی مقدار ذخیرہ کر لیں کہ ہمہ وقت بڑھتی ہوئی یعنی ever increasing انٹروپی کا مقابلہ کر سکیں اور جوابی اسٹروک کے ذریعہ اس کو لگام دے سکیں۔

من جو افعال خود بخود ہوجاتے ہیں۔ مثلاً:پانی کا بلندی سے پستی کی جانب بہنا ایک ایسا وقوعہ ہے جو محدود ہو جانے کی نفی ہے، قید سے آزادی کی نوید ہے اور عام زبان میں بیان کیا جائے تو ایک وسیع و عریض منطقہ یا علاقہ میں پھیلاؤ کی سہولت ہے۔

پانی کے سالمات میں پیہم حرکت و ارتعاش اور بلا کے طلاطم chaos کے جنم لینے کے باعث ان کی یکجہتی کو ختم کرکے منتشر ہو جانے کا رجحان ہے۔ ہوا کے دباؤ میں فرق کے باعث طوفان کی آمد بھی ایک محدود سے لا محدود رقبہ پر ہوا کی عملداری قائم ہونے ہی کا نتیجہ ہے۔ 

قدرت نے ہمیں مادّی ذرائع پیداوار مہیا کئے ہیں جن سے کام کے مواقع پیدا ہو تے ہیں انسانوں کو کارکردگی دکھانے مسابقت کرنے اور اپنے کو ممتاز بنا کر معاشرہ میں کوئی مقام بنانے کی صلاحیت سے مالا مال کیا گیا ہے ۔اگر انٹروپی نہ ہوتی تو نہ ٹھنڈی ہوا چلتی،نہ دریا بہتے ،نہ نیاگرا فال ہوتی،نہ فصلیں ہو تیں، کیوںکہ بیجوں کا انتشار نہ ہو تا۔

سیاسی انٹروپی کیمسٹری اور فزکس کے علوم میں توانٹروپی کی اصطلاح لازمی طور پر ہمیشہ استعمال کی گئ لیکن اب اس کو صحافت اور ادب میں بھی جگہ مل چکی ہے جب دنیا کے کسی حصہ میں بد امنی اور انتشار نظر آتا ہے تو یہ معاشرتی انٹروپی میں اضافہ کا نتیجہ قرار دیا جا تا ہے اور کسی ملک، معاشرہ یا سیاسی اکائی میں اس انٹروپی کے ممکنہ اضافے کو محدود کرنے کے لئے قوانین ایک دستور کے ذریعہ نافذ کرنے والے معاشرہ کو مہذب گردانا جاتا ہے اور اس دستور کو توانائی ایک طرف تو انصاف مہیا کرنے والے اداروں کو تقویت دے کر بہم پہنچائی جا تی ہے اور افراد جن سے یہ معاشرہ تشکیل پا تا ہے، اس کی مناسب تعلیم اور تربیت کے ادارہ کھول کر مختلف پیشوں کے لئے ماہرین کی افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنا یا جا تا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں