5 سال میں معیشت بدلنا چاہتے ہیں سر توڑ محنت اصلاحات لانا ہوں گی: وزیراعظم

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحالی کیلئے کابینہ کو5 سالہ روڈ میپ دے دیا ہے،  معیشت کا پہیہ چلے گا تو ملک خوشحال ہو گا،  سرکاری اخراجات میں کمی اور برآمدات کے مجموعی حجم میں اضافہ کیا جائے گا ،، بشام اندوہناک واقعہ پاک چین دوستی کو ثبوتاژ کرنے کی گھنائونی سازش ہے ،مسلح افواج کی ضروریات پوری کریں گے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے کابینہ کو 5 سالہ روڈ میپ دے دیا ہے ،معیشت کا پہیہ چلے گا تو ملک خوشحال ہو گا، ملکی معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ فائل ورک کے کام کے بوجھ کو کم کریں، ملکی معاشی صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے فوری طور پر اپنا کام شروع کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے کہا خود کفالت کے حصول کے لیے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم ،جی ڈی پی میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں کو ترقی ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور اسمگلنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔   تمام وزارتوں کو اہداف کے حوالے سے مراسلے جاری کر دیئے گئے ہیں اور خود ہر وزارت کی کارکردگی کا جائزہ لوں گا۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے ساتھ ذمہ داری پانچ سالہ روڈ میپ کی پہچان ہوگی کیونکہ دنیا کا کوئی بھی نظام اس کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ وزیراعظم نے ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور آلات کو تلاش کیا جائے ،جو دستیاب نہیں ہیں انہیں فوری طور پر منگوایا جائے، اگر کہیں انسانی وسائل کی کمی ہے تو بہترین یونیورسٹی سے قابل لوگ لیے جائیں جبکہ وزارتوں میں قابل سیکرٹریز موجود ہیں جن سے کام لیا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ تاخیر اور سرخ فیتے پر قابو پانے کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) جیسا فورم دستیاب ہے، عالمی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے قوانین پر عمل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زراعت ، پٹرولیم ، توانائی سمیت تمام شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے اصلاحات لانی ہوں گی، ٹیکس نیٹ کا بڑھانے اور اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں جس کے لیے ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کرنے جا رہے ہیں ۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملک سے چینی اور گندم کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپیلٹ کورٹس میں تقریبا 27 ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں ، مقدمات تیزی سے نمٹانے کے لیے قابل جج لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 25 بلین ڈالر کے آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے پاور سیکٹر میں 58 ارب روپے کی وصولی پر عبوری حکومت کو بھی سراہا اور کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہدف کم ترین مدت میں حاصل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے جسے پنپنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ ملک کے دفاع کے لیے  ہر ممکن وسائل فراہم کرینگے، پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ پاک چین دوستی آگے بڑھے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ افسوسناک واقعے پر چینی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے)  وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے رشیئن فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خوریف نے ملاقات کی ،وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے ماسکو کے باہر کروکس سٹی ہال حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں روس کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے انہیں دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے پر بھیجے گئے مبارکبادی پیغام پربھی شکریہ ادا کیا،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ متعدد شعبوں بالخصوص توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانا چاہتا ہے، انہوں نے بین الحکومتی کمیشن کے 9ویں اجلاس کے جلد بلانے کی ضرورت پر زور دیا،وزیر اعظم نے روسی فریق پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک وفد پاکستان بھیجے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کی موجودہ سطح کو بڑھانے کے طریقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ انہوں نے صدر پیوٹن کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔سفیر نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ روس پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے،انہوں نے کہا کہ توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ روس تعلیم اور ثقافت میں بھی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی سرگرم عمل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں