فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن نے اہل خانہ سے بات چیت کیوں بند کردی تھی؟

— فائل فوٹو

بالی ووڈ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نکھل اڈوانی نے انکشاف کیا ہے کہ مشہور زمانہ فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کی شوٹنگ کے دوران لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے اہل خانہ سے بات چیت بند کر دی تھی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نکھل اڈوانی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ امیتابھ بچن نے فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک سین میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اپنے اہل خانہ سے بات چیت بند کردی تھی۔

انہوں نے ماضی کا قصہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ میں امیتابھ نے ’یش رائچند‘ کا یادگار کردار نبھایا تھا۔ اس فلم کے دوران ایک سین ہے جس میں ان کو شاہ رخ خان کو کاجول سے شادی کرنے پر گھر سے نکالنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سین کے دوران امیت جی کی ایک لائن تھی جس میں انہیں کہنا تھا کہ ’آج تم نے ثابت کر دیا کہ تم میرے خون نہیں ہو‘، اس سین کے لیے امیتابھ کو اپنا لہجہ سخت کرنے کی ضرورت تھی، اس سخت موڈ میں آنے کے لیے، بگ بی نے اپنے گھر میں سب سے بات کرنا چھوڑ دی تھی۔

نکھل اڈوانی نے بتایا اس بات کا مجھ پر انکشاف اس وقت ہوا جب اس ایک سین کی شوٹنگ جو 2 دن میں ہونی تھی لیکن شوٹنگ 3 دن تک چلی تو میں نے اس پر جیا جی سے معافی مانگی۔

ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ میرے معافی مانگنے پر جیا جی نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ مجھے (جیا بچن) نہیں معلوم کہ میں (جیا بچن) نے کیا کیا ہے۔ پچھلے 2 دنوں سے، وہ (امیتابھ بچن) مجھ سے اور بچوں سے بات نہیں کر رہے ہیں، بس گھوم رہے ہیں اور سب کے ساتھ بدتمیزی کر رہے ہیں۔

نکھل اڈوانی نے مزید کہا کہ میں جیا جی کی بات سن کر حیران رہ گیا کہ کیوں؟، امیت سر ایسا کیوں کر رہے ہیں؟، جس پر انہوں نے وضاحت دی کہ وہ (امیتابھ بچن) اس کردار کے ’زون‘ (موڈ) میں رہنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ میں جیاجی کی بات سن کر چونک گیا کیونکہ امیت سر کی اس سین میں صرف ایک ہی لائن تھی۔

یاد رہے کہ فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ کی کاسٹ میں شاہ رخ خان، کاجول، امیتابھ بچن، جیا بچن، ہریتک روشن اور کرینہ کپور خان سمیت دیگر شامل ہیں۔

اس فلم میں امیتابھ بچن اور جیا بچن کی جوڑی کو شائقین نے فلم سلسیلا کے 20 برس بعد آں اسکرین ایک ساتھ دیکھا اور پسند کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں