بشام حملے پر ملک دشمن عناصر کا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا

بشام حملے پر ملک دشمن عناصر کا پروپیگنڈا بے نقاب، حقائق منظر عام پر آ گئے۔پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ملک دشمن عناصر اور مخالفین کو ایک آنکھ نہں بھاتی اسی لئے ملک دشمن پروپیگینڈسٹ مسلسل پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے درپے ہیں۔بشام میں دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں پانچ چینی انجینئرز ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک دشمن عناصر نے اس حساس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام میں حسب روایت مایوسی پھیلانا شروع کر دی اور سوشل میڈیا پر دعوے شروع کر دئیے کہ ڈیم پر چین کی جانب سے کام بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف چینی حکام کا کہنا ہے ڈیموں کے منصوبوں سے پاکستانی مزدوروں کو برطرف کرنے کی خبریں درست نہیں۔  بشام حملے میں پانچ چینی انجینئرز کی المناک ہلاکت کے باوجود چین نے تربیلا ڈیم توسیعی منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ساتھ مل کر اعلیٰ معیار کی ترقی کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے۔حملے کے بعد پاکستان میں ایک ہائیڈرو پاور پلانٹ میں سول ورکس اور ملازمین کی برطرفی کا الزام لگانے والی بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے چینی تعمیراتی کمپنی کے دفتری آرڈر نے ایسے دعوؤں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشتگردی پر چین کے موقف کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی تمام انسانوں کا مشترکہ دشمن ہے، اور یہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردی کا مقابلہ کرے اور اس طرح کے سانحات کے اعادہ کو روکے۔اس کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بشام دہشت گرد حملے کی مکمل مشترکہ تحقیقات کی ہدایت کی۔ حملے کے بعد ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی لوگوں کے فوری ردعمل کی تعریف کی. جس سے کئی جانیں بچ گئیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ہم مل کر ایسی تمام کارروائیوں اور قوتوں کے خلاف پوری عزم کے ساتھ کارروائی کریں گے اور انہیں شکست دیں گے۔ انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بیجنگ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اسلام آباد کے عزم کا اظہار کیا۔چینی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیانات اور داسو کے مقام پر چینی کمپنیوں کا دوبارہ سے کام شروع کرنا اور تربیلا ڈیم کے توسیعی منصوبے پر کام ان تمام ملک دشمن عناصر کے منہ پر طمانچہ اور ان کی شکست ہے جو چند دن پہلے تک اس واقعے پر اپنی جھوٹی سیاست چمکانے میں مصروف تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں