قومی اسمبلی: ججز خط بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا شدید احتجاج نعرے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ

اسلام آباد (وقائع نگار+ سب تکرپورٹ) سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھایا جبکہ اجلاس شروع ہوتے ہی ججز خط پر بحث کی اجازت نہ ملنے پر سنی اتحاد کونسل کے اراکین کے شور شرابہ‘ نعرہ بازی کی جس  پر سیشن کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں شانگلہ میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ فیصل آباد میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے نوجوان کی جان جانے کے معاملے پر ایوان میں بحث کی گئئی تو اراکین نے ڈور بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے خط کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بڑا حساس ہے، اس پر بحث کرائی جائے۔ پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات اور شیر افضل مروت نے دہشت گردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان معاملات پر فوری اقدمات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے درخواستیں طلب کرتے ہوئے کہا کہ کل نوٹیفکیشن جاری کر دوں گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر بحث کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا تو سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، اپوزیشن ارکان کی جانب سے ووٹ چور، مینڈیٹ چور اور ججوں کو تحفظ دو کے نعرے لگائے گئے۔ مصطفیٰ کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سود کا نظام اسلام کے خلاف کھلی جنگ ہے، سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ پوائنٹ پر بات کریں۔ اسد قیصر نے کہا کہ میری التماس ہوگی یہ بہت حساس ایشوز ہیں، جج صاحبان کی عزت و توقیرنہیں رہی۔ اسد قیصر نے تجویز دی کہ جب ججز پر دباؤ ڈالا جائے تو قومی اسمبلی میں ڈیبیٹ ہونی چاہئے، دونوں اطراف سے اس معاملے پر بحث ہونی چاہئے، ایاز صادق نے اسد قیصر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے ہمیں انتظار کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں