قرآن پاک کی بےحرمتی کرنے والا ملعون سلوان صباح مومیکا ناروے میں مردہ پایا گیا

فائل فوٹو

ملعون عراقی نژاد سلوان صباح مومیکا مبینہ طور پر ناروے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قرآن کی بے حرمتی کرکے شہرت حاصل کرنے والا 37 سالہ ملعون سلوان مومیکا حال ہی میں سویڈن سے ناروے منتقل ہوا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر 27 مارچ کو پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ملعون نے صارفین کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ناروے حکام کی حفاظت میں سویڈن سے ناروے منتقل ہو رہا ہے۔

سلوان مومیکا نے اپنی پوسٹ میں منتقلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ ’میں نے ناروے میں پناہ اور بین الاقوامی تحفظ کے لیے درخواست دی ہے کیونکہ سویڈن فلسفیوں اور مفکرین کے لیے نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے لیے پناہ قبول کرتا ہے۔

ملعون نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’میں اسلام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا، میں نے اس کی قیمت ادا کی ہے اور آگے بھی ادا کرتا رہوں گا، اور میں اس کے لیے تیار ہوں، چاہے مجھے کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے‘۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے گستاخِ قرآن کی لاش ملنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

واضح رہے کہ قرآن پاک کی متعدد بار بے حرمتی کرنے والا سلوان مومیکا عراق کے صوبے موصل کے ضلع الحمدانیہ سے تعلق رکھتا تھا۔

سلوان نے سویڈن میں پناہ حاصل کرنے سے قبل عراقی شہر نینوا میں ملیشیا کی سربراہی بھی کی، وہ دھوکا دہی سمیت متعدد کیسز میں عراق کو مطلوب تھا۔

سلوان کئی سال قبل سویڈن فرار ہو گیا تھا اوراس کی حوالگی کے لیے عراقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر سویڈش حکومت سے درخواست بھی کی گئی تھی۔

تاہم سویڈن نے سلوان کو عراق کے حوالے نہیں کیا تھا۔ مگر گزشتہ برس کے اختتام پر خبر سامنے آئی تھی کہ سویڈن نے سلوان کا مستقل رہائشی اجازت نامہ منسوخ کر دیا ہے جس کے بعد اب وہ حال ہی میں ناروے منتقل ہوگیا تھا۔

واضح رہے عراقی نژاد سلوان صباح مومیکا عیسائی تھا جو بعدازاں ملحد ہو گیا تھا اور اپنا تعارف ’ایک لبرل ملحد نقاد اور مفکر‘ کے طور پر کرواتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں