لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول


اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے 4 ججز کو بھی دھمکی آمیز خطوط موصول ہو گئے۔

اس حوالے سے رجسٹرار آفس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ خطوط جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام بھجوائے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی اور پولیس افسران لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے، سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

مشکوک خطوط کی جانچ کے لیے فرانزک ٹیمیں ہائی کورٹ پہنچ گئیں اور لاہور ہائی کورٹ کے سی سی ٹی وی کیمروں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

خط موصول کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے تینوں ججز انتظامی کمیٹی کے رکن ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موصول ہونے والے خطوط کی تعداد 4 ہے، ابھی تحقیقات ہو رہی ہیں، دیگر کورٹس کو بھی چیک کر رہے ہیں۔

علی ناصررضوی کا کہنا ہے کہ آپ کو درست حقائق بتائیں جائیں گے کچھ وقت دیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سمیت 8 ہائی کورٹ ججز کو مشکوک خطوط موصول ہوئے تھے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ایک جج کے اسٹاف نے خط کھولا تو اس کے اندر پاؤڈر موجود تھا۔

عدالتی ذرائع نے بتایا ہے کہ خط کے متن میں لفظ اینتھریکس لکھا ہوا تھا، خط کے اندر ڈرانے دھمکانے والا نشان بھی موجود ہے۔

ریشم نامی خاتون نے بغیر اپنا ایڈریس لکھے ججز کوخطوط بھیجے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں