دباؤ برداشت نہ کرسکنے والا انصاف کی کرسی پر کیسے بیٹھ سکتا ہے، طلال چوہدری

فائل فوٹو۔

مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جو شخص پریشر نہیں لے سکتا تو انصاف کی کرسی پر کیسے بیٹھ سکتا ہے، جج خط نہیں بلکہ نوٹس جاری کرتا ہے۔ 

طلال چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججز وزیراعظم کو پھانسی یا اقتدار سے ہٹا دیتے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک ہی ضابطہ ہے کہ ججز اپنے فیصلوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ 

انھوں نے کہا ججز لکھ کر کہہ رہے ہیں کہ ہماری کوئی نہیں سن رہا۔ ضلعی عدلیہ کو پریشر اور تحفظ سے بچانے کیلئے ہائیکورٹ ہوتا ہے۔ آپ کو تو جزا و سزا کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ 

طلال چوہدری نے کہا عدلیہ کو تمام پریشر سے آزاد ہونا چاہیے۔ انکے مطابق پارلیمنٹ کو سوموٹو لینا چاہیے، یہ سب سے بڑا ادارہ ہے۔ 

طلال چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا میں ایک ہی ضابطہ ہے کہ ججز اپنے فیصلوں سے پہچانے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا توہین عدالت پر وزیراعظم سے لے کر رکن اسمبلی تک نااہل ہوسکتا ہے۔ توہین پارلیمنٹ میں کسی جج کو پارلیمنٹ نہیں بلاسکتے۔ 

طلال چوہدری نے کہا نواز شریف کو تاحیات نااہل کر دیں پھر کہیں کہ غلط فیصلہ ہوا تھا۔ ان کو نہ پوچھیں جنھوں نے نااہل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کون ہے جس کو ججز نوٹس نہیں کرسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں