کوئٹہ میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگا رنگ افتتاح

فوٹو بشکریہ آرٹس کونسل کراچی

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بلوچستان میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول (کوئٹہ چیپٹر ) کا رنگا رنگ افتتاح کردیا گیا، تقریب کے مہمانِ خصوصی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی تھے جبکہ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے استقبالیہ خطبہ پیش کیا۔

افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر ثقافت سندھ ذوالفقار علی شاہ، وائس چانسلر بیوٹم یونیورسٹی خالد حفیظ، سابق پرنسپل سیکریٹری و شاعر فواد حسن فواد، ادیبہ نورالہدیٰ شاہ، غازی صلاح الدین، حفیظ جمالی، منیر بادینی، استاد نورل، سلیم صافی، مظہر عباس، صادقہ صلاح الدین، سہیل احمد نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

پاکستان لٹریچر فیسٹیول (کوئٹہ) کا آغاز پاکستانی قومی ترانے سے کیا گیا۔ فیسٹیول میں طلبا و طالبات سمیت کوئٹہ شہر کی عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے استقبالیہ خطبہ میں صوبائی وزیر ثقافت سندھ سید ذوالفقار علی شاہ اور وائس چانسلر خالد حفیظ کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے کوئٹہ میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کرنے میں مدد ملی، پروفیسر قرار حسین نے بلوچستان میں تعلیم کی بنیاد ڈالی ان کا بچپن یہاں گزرا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نسلی، زبان اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلوچی ادب، پشتو ادب، سرائیکی ادب، سندھی ادب، پنجابی ادب، کشمیری ادب، گلگت بلتستانی ادب، شینا کا ادب، اردو ادب مل کر گلدستہ نہیں بناتے تو پاکستانی ادب نامکمل ہے۔ کلاسیکی اور ماڈرن ادب گل خان نصیر، خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، غالب، استاد دامن، بلھے شاہ، شاہ لطیف اور سچل کے بغیر نامکمل ہے۔

محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کہ میں اپنی ذات سے نہیں نسل سے مایوس ہوچکا ہوں، اگر اس صوبے اور پاکستان کو کوئی آگے لے کر جاسکتا ہے تو وہ نوجوان ہیں، تم سب اس ملک کا مستقبل ہو اگر تم لوگ آگے جاﺅ گے تو بلوچستان، پشین، ژوب، لورالائی، مکران، سبی آگے جائے گا۔ اس ملک کی باگ دوڑ آپ لوگوں نے سنبھالنی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹم بم، کلاشنکوف، توپ یہ ہتھیار نہیں بلکہ آپ کا قلم آپ کے کام آئے گا۔

محمد احمد شاہ نے کہا کہ یہ کل پرسوں کا بلوچستان اور کوئٹہ نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے۔ 1935ء میں یہ شہر مسمار ہوگیا تھا جو لوگوں کی ہمت تھی اس ملبے پر یہ شہر آباد ہوا۔ تم لوگ ان کی اولادیں ہو تم سب نے بھی ہمت کرنی ہے۔

صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ آرٹس کونسل کراچی
صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں – فوٹو بشکریہ آرٹس کونسل کراچی

خطاب کے آخر صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی آواز پر ہال میں موجود تمام طلبہ و طالبات نے Yes We Can کے نعرے لگائے۔

مہمانِ خصوصی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام مہمانوں کو کوئٹہ آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس فیسٹیول کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ادبی میلہ مصنفین، شاعر و دانشوروں کا اجتماع نہیں بلکہ انسانی روح کا جشن ہے جو اجتماعی دانش کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادبی میلوں میں خیالات کا تصادم اور ہم آہنگی ہوتی جبکہ تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ میں آج ان مصنفین کی تخلیقی صلاحیتوں اور ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہمیں افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے ادب کی طاقت کو پہچاننا ہوگا۔

اسپیکر بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول ہم سب کے بھائی چارے، یکجہتی اور روشن خیالی کا باعث بنے گا۔ ہمیں وہ لیڈر شپ چاہیے جو ہم سب بلوچ، پشتون، سرائیکی اور اقلیتوں کو تقسیم کرنے کے بجائے اکٹھا کرکے آگے ساتھ لے کر چلے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک مشترکہ صوبہ ہے جس میں پشتون، بلوچ، ہزارہ اور اردو بولنے والے اور دیگر زبانوں کے لوگ موجود ہیں۔ آج بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل نظر آرہا ہے، آپ لوگ اپنی صلاحیتوں کا مقابلہ کرکے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھال سکتے ہیں، سیاسی لیڈر شپ ہو، قبائلی ہو یا ادبی لیڈر شپ، یہ ہمارے رہنما ہیں، ہماری آنے والی نسلیں ان کے پیچھے چلیں گی۔

انکا کہنا تھا کہ آپ نے کسی کے کاندھے پر رکھ کر بندوق نہیں چلانی بلکہ اپنے بل بوتے پر اس معاشرے کو موجودہ صورتحال سے نکلانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

فوٹو بشکریہ آرٹس کونسل کراچی
فوٹو بشکریہ آرٹس کونسل کراچی

صوبائی وزیر ثقافت سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موہنجو دڑو سندھ کی تاریخ 5 ہزار سال پرانی ہے، یہاں پر رہنے والے بلوچ ہوں یا پختون ان کا ایک قدیم تعلق ہے۔ بلوچستان کی محبتیں پورے پاکستان کے لیے ہیں، مجھے یقین ہے کہ بلوچستان کے نوجوان پاکستان میں تبدیلی لاکر پورے ملک کو اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں ٹورازم کا بھی وزیر ہوں، آپ سب کو سندھ آنے کی دعوت دیتا ہوں، اس کے تمام اخراجات ہم اٹھائیں گے، ہمارے طالب علموں کو سندھ کے قدیم ورثے کے بارے میں پتا ہونا چاہیے۔

سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ اب زمانہ آپ لوگوں کا ہے، یہیں سے انجینئرز نکلیں گے، پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

اس موقع پر نامور صحافی سلیم صافی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی بلوچستان نہیں بلکہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی ہے۔ آپ لوگ خوش قسمت ہیں ایسا وائس چانسلر ملا ہے جو اتنا دور اندیش اور مستقبل بین ہے جنہوں نے 1992ء میں اے آئی میں پی ایچ ڈی کرلیا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں مجھے کوئی دوسرا اے آئی میں ماسٹر لیول کا شخص نہیں ملا، میں نے بلوچستان کی قوم پرست قیادت کو سب سے سنجیدہ پایا۔ آپ ان کے جانشین ہیں مجھے یقین ہے آپ کی روایت کو برقرار رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آرٹس کونسل محمد شاہ نے ایک گلدستہ کوئٹہ میں سجایا ہے جس کا بنیادی مقصد اپنی خوشیوں میں دکھوں کے مارے اس صوبے کے نوجوانوں کو شریک کرنا ہے اور آپ کی آواز پورے پاکستان تک پہنچانا ہے۔

سینئر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس نے کہا کہ کوئٹہ آ کر پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میرے پسندیدہ اور معتبر سیاستدان کا تعلق کوئٹہ سے تھا۔ میں نے اپنا آخری انٹرویو میر غوث بخش بزنجو سے کیا۔ بزنجو صاحب کی خدمات بلوچستان کے لیے قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بلوچستان کی حکومت اس وقت ختم کی گئی جب بلوچستان بننے جارہا تھا۔ میر حاصل بزنجو اور ہم نے ساتھ سیاست شروع کی، پروفیسر قرار حسین اور میرے والد تعلیمی شعبوں میں سرفہرست رہے۔ جب طلباء آپس میں لڑتے تو پہلے یہ دونوں آگے کھڑے ہوتے تھے کہ اگر مارنا ہے تو پہلے ہمیں مارو، اس طرح کے وائس چانسلر پھر نہ اس صوبے کو ملے نہ اس ملک کو، مگر آج اس ہال میں ہزاروں طلباء کو دیکھ کر مجھے یقین ہے کہ بلوچستان پاکستان کو بدلے گا۔

انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے، بلوچستان کی ثقافت، موسیقی اور صحافیوں میں بہت طاقت ہے۔ یہاں کے طلباء میں سیاسی شعور ہے، سب سے زیادہ بلوچستان کے صحافی مارے گئے کیونکہ وہ لوگوں کو سچ بتانا چاہتے تھے۔

اس موقع پر اداکار و میزبان سہیل احمد نے کہا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ کوئٹہ آیا ہوں، آپ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت کبھی بھی کم نہیں ہوسکتی۔ آپ نے رب سے ملنا ہو تو محبت شروع کردیں آپ کو اللّٰہ تعالیٰ مل جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احمد شاہ صاحب پاکستانی ثقافت کے ایسے ملنگ ہیں جو بلوچی لیوا کے ساتھ ساتھ پنجابی دھمال، خیبر پختونخوا کا خٹک ڈانس اور سندھی رقص بھی جانتے ہیں۔ یہ جہاں بھی جاتے ہیں اسی طرح دھمال ڈال کر لوگوں میں محبتیں بانٹتے ہیں اور لوگوں کا پیار سمیٹتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اس فیسٹیول کو اتنا کامیاب بنائیں کہ یہ سال نہیں ہر تین ماہ بعد یہاں آئیں۔ آپ لوگوں کو یہاں دیکھ کر میں برملا کہتا ہوں کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کوئٹہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب فیسٹیول ہوگا۔

ادیبہ نورالہدیٰ شاہ نے کہا کہ اس وقت اگر پاکستان میں کوئی نوجوان نسل اپنے پورے شعور کے ساتھ سر اٹھائے کھڑی ہے تو وہ بلوچستان کی نوجوان نسل ہے۔

انکا کہنا تھا کہ دور سے دیکھنا اور بات ہے جب آپ قریب سے ناراضگی، دکھ، محرومیاں سنتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ آپ بھی سلگ رہے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ، آپ کا شعور اور دیگر مسائل کا حل ہم ڈائیلاگ کے ذریعے نکال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے حُسن میں شعور ہے، اس قوم سے زیادہ خوش نصیب کوئی قوم نہیں ہے جس کے نوجوان بیٹے، بیٹیاں اور عورتیں یہاں سے لے کر دارالحکومت تک اپنا سفر طے کرتی ہیں۔

صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتی کہ ماضی میں چلے جائیں مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ اٹھاتے ہوئے پرانی روایتوں کو بھی زندہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آرٹ اور کلچر کے ذریعے ملک میں تبدیلی لاسکتے ہیں، پہلے یہاں جشن کوئٹہ ہوا کرتا تھا اور اس کی دھوم کوئٹہ کے گھر گھر میں ہوتی تھی۔

پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں مختلف اسٹالز لگائے ہیں جن میں کتابوں، کھانوں، دست کاری، سندھی ٹوپی و اجرک اور دیگر صوبوں کے ثقافتی لباس کے اسٹال شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں