ہتک عزت قانون کا بل پنجاب اسمبلی واپس بھیجنے کیلئے گورنر کو مراسلہ ارسال

 پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے ہتک عزت قانون کے بل کو بنا منظوری واپس بھیجنے کیلئے گورنر کو مراسلہ ارسال کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ہتک عزت قانون کو پنجاب اسمبلی واپس بھیجنے کے لئے گورنر پنجاب کو ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے مراسلہ ارسال کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ہتک عزت کا قانون آئین کے آرٹیکل 19 کے منافی ہے، اس قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار رائے کو روکا گیا جو بنیادی حق کے خلاف ہے، ہتک عزت قانون معلومات تک رسائی کے شہریوں کے حق میں بڑی رکاوٹ ہے، ہتک عزت قانون کے نفاذ سے آزادی اظہار کا گلہ کاٹ دیاگیا، بل کی منظوری شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے، بل کے نفاذ کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا خدشہ ہے، گورنر بل کو منظور کیے بغیر اسمبلی واپس بھجوائے۔ بتایا جارہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ہتک عزت بل 2024ء کو ایوان سے منظور کر الیا ہے،جس کا اطلاق پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا، یوٹیوب، سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا، ذاتی زندگی، عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لئے پھیلائی جانے والی خبروں پر کارروائی ہوگی، ہتک عزت کے کیسز کے لئے ٹربیونل قائم ہوں گے جو 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے، ہتک عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائیکورٹ بنچ کیس سن سکیں گے، خواتین، خواجہ سراؤں کے کیس کی قانونی معاونت کے لئے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت ہوگی۔ معلوم ہوا ہے کہ اپوزیشن نے بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں ، اپوزیشن نے بل بارے دس سے زائد ترامیم پنجاب اسمبلی میں جمع کروائیں، پنجاب اسمبلی ہتک عزت بل 2024بل کے خلاف اپوزیشن کی ترامیم کوایوان میں زیر بحث لایا گیا، قائد حزب اختلاف احمد خان بھچر نے اپنی ترمیم کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت بل 2024 کالا قانون ہے اس کا حصہ نہیں بنیں گے، ہتک عزت قانون سے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگے گا،ہتک عزت قانون پر ججز کا پینل پنجاب حکومت کو دینا ہے ،بل کو سپیشل کمیٹی کے پاس بھیجیں،کیا جلدی ہے کہ رات بارہ بجے سے پہلے اس بل کو منظور کرانا ہے ، کمیٹی میں سب اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر اعتماد میں لیں ۔