خیبرپختونخوا حکومت کا پہلی مرتبہ وفاقی حکومت سے پہلے بجٹ پیش کرنے کا اعلان

پشاور : خیبرپختونخوا حکومت نے پہلی مرتبہ مالی سال 2024-25 کا بجٹ وفاقی حکومت سے پہلے پیش کرنے کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ وفاقی حکومت کےبجٹ سے قبل پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔صوبائی وزیرخزانہ آفتاب عالم نے کہا کہ پہلی بار وفاقی حکومت سے پہلے بجٹ پیش کریں گے. چوبیس مئی کو صبح گیارہ بجے کابینہ کا اجلاس اور تین بجےاسمبلی کااجلاس ہوگا۔

خیال رہے آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے وفاقی بجٹ اگلے ماہ 7 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں وفاق کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 16 ہزار 700 ارب روپے ہو سکتا ہے اور مالیاتی خسارہ 9300 ارب رہنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں وفاق کے اخراجات کا ابتدائی تخمینہ 16 ہزار 700 ارب روپے ہو سکتا ہے جس میں سود اور قرضوں پر اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 700 ارب روپے لگایا گیا ہے۔بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ابتدائی تخمینہ 11 ہزار ارب روپے سے زائد ہوسکتا ہے جس میں ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 5300 ارب روپے جمع ہونے کا امکان ہے جب کہ 680 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں جمع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت پاکستان مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا امکان ہے۔مالی سال 2024-25 کی بجٹ تجاویز میں کہا گیا کہ پاکستان میں مرحلہ وار سیلز اور انکم ٹیکس پر چھوٹ ختم کرنے کا امکان ہے۔