جون میں نئی ہیٹ ویوز اور گلیشیرز پگھلنے سے سیلاب کا بھی خطرہ

پاکستان کے بیشتر بالائی، جنوبی اور مغربی علاقے اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ آج (اتوار کو) بھی ملک بھر میں شددی گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی موجودہ لہر اور ہیٹ ویو 31 تک رہے گی تاہم جون میں پھر پارہ چڑھنے اور ویو کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے شہریوں کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں۔ہفتے کو دادو اور موئن جو دڑو میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ جیکب آباد میں پارہ 49 جبکہ لاڑکانہ، سکھر اور سبی میں 48 سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جون کے دوران مزید گرمی سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے اور اِس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بھی ہے۔ غیر معمولی گرمی سے جنگلات میں آگ بھی بھڑک سکتی ہے۔21 مئی سے ملک بھر میں 26 اضلاع شددی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ ماحول کی وزارت نے جمعرات کو بتایا تھا کہ جون میں دو بار ہیٹ ویوز آئیں گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جنگلات کا رقبہ تیزی سے گھٹتا جارہا ہے اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی معاشی و دیگر سرگرمیوں کے نتیجے میں بھی شدید گرمی کے اسپیل آرہے ہیں۔نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کی رابطہ کار برائے ماحولیات رومینہ خورشید عالم نے وزارتوں اور صوبائی محکموں پر شہریوں کو ہیٹ ویوز سے محفوظ رکھنے کے اقدامات یقینی بنانے پر زور دیا۔محکمہ موسمیات، پاکستان کے اعداد و شمار کی روشنی میں رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ ملک کے بہت سے علاقوں میں اس وقت درجہ حرارت نارمل سے 5 یا 6 سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستانکے 26 اضلاع میں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ متعدد علاقوں کے مکینوں کو شدید نوعیت کی ہیٹ ویو کا سامنا ہے۔ رواں موسمِ گرما کے دوران تین بار ہیٹ ویوز آنے کا امکان ہے۔ پہلی ہیٹ ویو 22 مئی کو شروع ہوئی اور جاری ہے۔ دیگر ویوز جنوری کے اوائل اور اواخر میں آئیں گی۔ وزیر اعظم کی رابطہ کار برائے ماحول کا کہنا تھا کہ یہ تو ابتدا ہے، رواں سال غیر معمولی تناسب سے گرمی پڑے گی۔پریس کانفرنس میں این ڈی ایم اے کے ممبر فار ڈزاسٹر رِسک ریڈکشن ادریس محسود اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب بھی شریک ہوئے۔ رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ ہیٹ ویوز سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بہت بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ 2015 میں آنے والی ہیٹ ویو کے ہاتھوں 2500 اموات واقع ہوئی تھیں۔ رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ عوام کو ہیٹ ویوز سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بتایا جانا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں ایسی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا جانا چاہیے جن کے نتیجے میں ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو کم از کم رکھنا ممکن ہو۔