قائد اعظم محمدعلی جناح کے پاکستان میں سیاستدان اپنے اقتدار بچانے میں مصروف،عوام سڑکوں پر آٹے کے لیے ذلیل خوار

سیاسیدان اقتدار بچانے میں مصروف قوم سڑکوں پر آٹے کے لیے ذلیل خوار 70 سال میں بھی ملک کی قسمت بدل نہ سکی قوم آج بھی قطاروں میں زندگی بچانے کے لیے دھکے کھا رہی ہے

ٹانڈہ( امان اللہ گجر )زرعی ملک چار موسموں کی بہار والا ملک جس پر قدرت کی بے شمار عنایات ہیں جہاں شمالی علاقہ دنیابھر کی خوبصورتی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں 70 سال ہو گئے آزاد ہوئے مگر کتنی بدقسمتی ہے ہم آج بھی غیروں پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں بڑے عوامی لیڈر ہونے کے دعویدار اقتدار میں آتے رہے جاتے رہے مگر حالات نہ بدل سکے جو آیا وہ اپنا نظام اپنا قانون لے کر آیا اور اس ریاست پاکستان کو مفت کا مال سمجھ کر لوٹتا رہا آخر کب تک یہ قوم اسی طرع بحرانوں اور قطاروں میں ذلیل ہوتی رہے گی

آج کئی روز سے ملک بھر میں گندم اور آٹے کے بحران نے غربیوں کا جینا حرام کر دیا ہے جبکہ حکمرانوں کے کانوں میں جوں نہیں رینگ رہی بھوک اور فاقہ کشی سے غریب موت کے دہانے پر پہنچ گیا وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیاست بچانے پر مصروف ہیں جبکہ قوم اور ملک کا کوئی پرسان حال نہیں ملک دیوالیہ ہونے کے کنارے پر کبھی پٹرول کی قلت کبھی آٹے کی قلت کبھی چینی کی قلت 70 سال سے عوام قطاروں میں ذلیل خوار ہورہی ہے

مگر ہر دور میں سیاسیدانوں نے صرف اپنے مفادات کو ترجیح دی اور ملک کو ایسے لوٹا جیسے یہ ایک اُجڑی ہوئی ریاست ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں ہے

قائد اعظم نے ایک آزاد پاکستان دیا اور ہم آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ تب غلامی کا لیول اور تھا اب اور ہے جن چیزوں میں ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے تھا آج انہی چیزوں کا بحران ہے قوم کو ہر دور میں سیاسیدانوں نے خوابوں کی دینا میں زندہ رکھا آج بھی ہمیں سیاستدان بھیڑ بکریاں ہی سمجھتے ہیں جب چاہے جدھر چاہے ہانک لیتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں