آزاد امیدواروں کا جیتنا شفاف الیکشن کا ثبوت نتائج تبدیل نہیں کئے جا رہے: گوہر اعجاز مرتضیٰ سولنگی

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹر+ اے پی پی+ سب تکرپورٹ) نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز اور وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد امیدواروں کا جیتنا اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے‘ نتائج تبدیل نہیں کئے جا رہے۔   کامن ویلتھ کے آبزرور گروپ کے سربراہ نے بھی کہا کہ جب موبائل اور انٹرنیٹ سروس موجود نہیں تھی، اس وقت بھی جمہوریت اور الیکشن ہوتے تھے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ لوگوں کو کچھ مشکلات ضرور پیش آئی ہیں لیکن شہریوں کی جانوں کا تحفظ سکیورٹی اداروں اور وزارت داخلہ کا کام تھا۔ ہمارے لئے لوگوں کی جانیں بچانا زیادہ ضروری تھا۔ سکیورٹی خطرات کی وجہ سے موبائل فون سروس بند کی گئی۔ نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے عام انتخابات 2024ء کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں بڑی تعداد میں عوام کا ووٹ ڈالنا ہماری جمہوریت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ پاکستان بھر سے عوام نے بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا اور جمہوریت سے اپنی وابستگی، قومی ذمہ داری اور اپنے ووٹ کی طاقت پر یقین کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا، مبصرین، مقامی میڈیا اور فیلڈ میں موجود صحافیوں کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی موجودگی اور کوریج عالمی سطح پر ہمارے انتخابی عمل کی سالمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتخابی عمل کے دوران محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے میں غیر متزلزل عزم اور تندہی سے کام کیا، ان کی لگن نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے اور کسی بڑے اندوہناک واقعہ کے بغیر انجام پایا جس سے ہر شہری کو امن اور سلامتی کے ساتھ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کا موقع ملا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مثالی طرز عمل اور انتخابی عمل کے انتظام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب اپنے جمہوری اداروں کی حمایت اور استحکام جاری رکھنے کا عہد کریں۔ ہم مل کر مستقبل کی نسلوں کے لئے ایک مضبوط، زیادہ خوشحال اور جمہوری پاکستان بنائیں گے۔ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں سول مسلح افواج، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سویلین اہلکاروں کو ہزاروں مربع کلومیٹر کے متنوع علاقوں اور سخت موسم میں محدود وقت کے اندر تعینات کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ تمام بڑے سیاسی ادارے عمومی طور پران نتائج سے مطمئن ہیں جو بدلتے ہوئے حقائق اور قوم کے مزاج کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ انتخابات سے صرف ایک دن قبل دہشت گردی کے واقعات میں 28 افراد کی ہلاکت اور 64 دیگر افراد شدید زخمی ہوئے جس نے ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے متعدد اقدامات کرنے پر مجبور کیا۔ اس میں ملک بھر میں موبائل فون سروسز کو معطل کرنے کا مشکل فیصلہ بھی شامل ہے تاکہ دہشت گردوں کے روابط اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام دینے کے ذرائع سے روکا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں