امریکی رکن پارلیمنٹ نے غزہ سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دے دی

— فائل فوٹو

امریکی رکن پارلیمنٹ ٹم والبرگ کی غزہ پر جوہری بم گرانے کی تجویز پر مبنی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے دفتر نے وضاحتی پیغام جاری کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ٹم والبرگ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں ری پبلکن کانگریس کے رکن کے بیان کی وضاحت پیش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ صرف غزہ ہی نہیں بلکہ یوکرین کو روس کے ساتھ بھی وہی کرنا چاہیے تاکہ روس کو جلد سکشت دی جاسکے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹم والبرگ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری اسلحے یا بم کا استعمال استعاراتی طور پر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بحیثیت ایک ایسے شخص کے جو سرد جنگ کے دور میں پلا بڑھا ہے، ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال آخری چیز ہوگی جس کا میں مشورہ دوں گا۔

امریکی رکن پارلیمنٹ نے غزہ سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت دے دی

ٹم والبرگ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مختصر ویڈیو کلپ میں، میں نے جوہری اسلحے یا بم کے استعمال کو بطور ’استعارا‘ استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک اسرائیل اور یوکرین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اپنی جنگیں جلد از جلد جیتیں اور اسے ختم کریں تاکہ امریکی فوجیوں کا نقصان کم سے کم ہو یا امریکی فوجیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میری بات کا مقصد وہ نہیں ہے جو سوشل میڈیا پر بیان کیا جارہا ہے بلکہ اس کے برعکس ہے کہ یہ دونوں جنگیں جتنی جلدی ختم ہونگی اتنی ہی کم معصوم جانیں اس کے نتیجے میں ضائع ہونگی۔ حماس اور روس جتنی جلدی ہتھیار ڈالیں گے، آگے بڑھنا اتنا ہی آسان ہوگا۔

ان کے مطابق اس استعارے کے استعمال نے، سیاق و سباق کو ہٹانے کے ساتھ، میرے پیغام کو مسخ کر دیا ہے لیکن میں اب بھی اپنے ان عقائد پر پوری طرح قائم ہوں اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں