بشام واقعہ کے پیچھے پاکستان کے دشمن چینی باشندوں کو فول پروف سکیورٹی دینگے: شہباز شریف

اسلام آباد+راولپنڈی (خبرنگارخصوصی+آئی این پی )  بشام حملے میں ہلاک ہونے والے 5 چینی باشندوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے نورخان ایئر بیس پر پھول رکھنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور چیف آف ایئر سٹاف ظہیر احمد بابر سدھو کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر پھول رکھے گئے۔ اس موقع پر دہشت گردی واقعے میں مارے گئے چینی شہریوں کے اعزاز میں 30 سیکنڈ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ تقریب میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کے اس گھناونے فعل کی شدید مذمت کرتی ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر اوور سیز پاکستانیز چوہدری سالک چینی انجینئرز کی میتیں لے کر چین پہنچ گئے،  چوہدری سالک نے انجینئرز کی میتیں چینی حکام کے حوالے کیں ۔ 

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں کام کرنے والے چینی باشندوں کے ہر ممکن تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی دوست پاکستان کی ترقی اورخوشحال کیلئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے، ہم ان کی فول پروف سیکورٹی یقینی بنائیں گے،بشام واقعہ کے پس پردہ پاکستان کے دشمن کارفرما ہیں ، واقعہ میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ان خیا لات کااظہار انہوں نے پیر کو بشام واقعہ کے تناظر میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز اور ماہرین سے تعزیت اور اظہار یکجہتی کیلئے دورہ داسوکے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چینی سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، چینی کمپنی کے اراکین اور سینئر حکام موجود تھے۔اس موقع پر بشام واقعہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چینی انجینئرز کی یاد میں 30سیکنڈ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر چینی انجینئروں سے ملاقات بھی کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بہن اور بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے داسو کا دورہ کیاہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ بشام واقعہ دہشت گردوں کا بزدلانہ فعل تھا جس کا مقصد پاکستان اور چین کی غیر معمولی دوستی کو متاثر کرنا تھا، یہ فعل پاکستان کے دشمنوں کا ہے۔ ہمارے دشمن دونوں ملکوں کے درمیان روز بروز مستحکم اور وسیع ہوتی دوستی کو متاثر کرنے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تاکہ چین اور پاکستان جیسے آئرن برادرز کی دوستی میں رخنہ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں موجود چینیوں کے چہروں پر اپنے ساتھیوں کی جدائی کا سوگ دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ حکومت پاکستان یہاں کام کرنے والے چینیوں اور ان کے خاندانوں کی سیکورٹی کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے، ہم ان کی فول پروف سیکورٹی بنائیں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے چینی بھائیوں کو یقین دہانی کرائی کہ اس واقعہ میں ملوث شرپسند عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے اور انہیں ایسی سزا دی جائے گی کہ جو ایک مثال ہو گی اور کوئی مستقبل میں ایسی حرکت کی جرات نہیں کر سکے گا۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سفارشات پرکارروائی کرینگے۔  داسو سمیت ملک بھر میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو بہتر سیکورٹی فراہم کرینگے۔دوستی، سی پیک اور چین پاکستان تعلقات کے دشمنوں کو شکست فاش ہو گی۔
 پاکستان میں چین کے سفیر جیان ژائی ڈونگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے فوری بعد وزیراعظم نے اظہار یکجہتی کیلئے چینی سفارتخانے کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے چینی باشندوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے اعلی سطح کا اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی مصروفیت کے باوجود چینی انجینئرز سے اظہار یکجہتی کیلئے داسو کا دورہ کیا ہے جس پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے چینی باشندوں کی فول پروف سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی۔ امید ہے کہ پاکستانی حکومت دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے مزید اقدامات اٹھائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں