پولن الرجی سے آنکھیں سوج سکتیں دھوپ کا چشمہ استعمال کیا جائےطیب افغانی  

اسلام آباد(اپنے سٹا ف رپورٹر سے )الشفا ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا ہے کہ موسم بہار کے آغاز سے ہی پولن الرجی کا آغاز ہو جاتا ہے جس میں آنکھوں میں خارش جلن سرخی اور پانی آنا معمول ہے تاہم احتیاطی تدابیر سے اس سے بچا جا سکتاہے۔ یہ الرجی آنکھوں میں پانی بھرنے اور آنکھوں کی سوجن کا سبب بن سکتی ہے۔ دیگر علامات میں آنکھوں کا درد بھی شامل ہے۔ڈاکٹر طیب افغانی نے کہا کہ آنکھوں کی الرجی کسی بھی دوسری الرجی کی طرح ہی ہوتی ہے۔انسان کامدافعتی نظام اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے جو آنکھوں سے ہسٹامین اور دیگر کیمیکلز خارج کرتا ہے، جس سے آنکھیں سرخ، پانی اور جلن ہوتی ہیں۔پولن درختوں گھاس پھونس اور کڑی بوٹیوں میں ایک پاوڈر کی شکل کا دانہ دار مادہ ہوتا ہے جو کیڑوں یا ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔اس تکلیف سے بصارت کو خطرات لاحق نہیں ہوتے جبکہ گھر سے باہر نکلنے کو محدود کر کے اوردھوپ کے چشمے استعمال کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔اس الرجی سے بچنے کے لئے لوگوں کو گھروں کی کھڑکیاں بند اور گاڑی چلاتے ہوئے بھی کھڑکیاں بند رکھنی چائیے۔ انھوں نے کہا کہ اکثر لوگ اس بیماری کا علاج ڈراپس کے ذریعے کرتے ہیں جس میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے طویل عرصہ تک استعمال منفی اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں