راجیو گاندھی قتل کیس کے 3 مجرمان بھارت سے کولمبو روانہ

فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

 سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل میں اہم کردار ادا کرنے کے الزام میں 3 افراد کو مجرم قرار دیا گیا تھا جو کہ آج صبح کولمبو کے لیے روانہ ہو گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث تینوں افراد کو تروچیراپلی کے ایک خصوصی کیمپ میں 2022 میں جیل سے رہائی کے بعد رکھا گیا تھا جہاں سے پولیس افسران کی ایک ٹیم نے اِنہیں آج صبح چنئی ہوائی اڈے پر پہنچایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق موروگن اور رابرٹ پیاس اور جے کمار نومبر 2022ء میں سپریم کورٹ کے ذریعے رہائی پانے والے چھ افراد میں شامل تھے۔

ان افراد کو جیل میں رہتے ہوئے اطمینان بخش رویہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر رہا کیا گیا تھا، دوسری جانب تامل ناڈو کی حکومت کی جانب سے بھی ان کی رہائی کی سفارش کی گئی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ان چھ میں سے ایک فرد، موروگن نے 2022ء میں  سپریم کورٹ کے حکم پر رہا ہونے پر ایک ہندوستانی شہری نلنی سے شادی کر لی تھی، نلنی بھی اپنے شوہر کے ساتھ چنئی کے ہوائی اڈے پر گئی تھی۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نلنی نے مورگن کے کولمبو کے لیے روانہ ہونے سے چند لمحے قبل اس کے ساتھ بات چیت بھی کی۔

یاد رہے کہ تین دہائیاں قبل، آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیوہ، کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے اس کیس میں مداخلت کرتے ہوئے نلنی کی جان بچائی تھی۔

نلنی و دیگر کو موت کی سزا سنائی گئی تھی، نلنی کی حاملہ ہونے سے متعلق خبر سامنے آنے پر سونیا گاندھی نے اس کی سزا کی معطلی کی درخواست کی تھی، نلنی کی بیٹی اب برطانیہ میں ڈاکٹر ہے۔

دو سال قبل رہا کیے گئے چھ افراد میں سے ایک سنتھن کی چنئی کے ایک اسپتال میں موت واقع ہو گئی تھی۔ 

سنتھن کے جگر کی خرابی کا علاج جاری تھا جس کے دوران اُس کی موت واقع ہوئی، سنتھن بھی سری لنکا کا شہری تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں