پاکستان کی بھارت کیساتھ تجارت سے افراط زر کنٹرول کرنے میں مدد ملے گیعاطف ا کرام

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف ا کرام نے کہا ہے جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بہت ہی کم ہے، پاکستان کی بھارت کے ساتھ تجارت ہونا چاہیے، اس سے افراط زر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، ملک کے اندر صنعت و کاروبار چلانا ہے تو  انرجی کے نرخوں میں کمی کرنا ہوگی، ملک کے اندر صنعت کاری کو فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے، عاطف اکرام نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سب تکسے گفتگو کرتے ہوئے کیا، عاطف اکرام نے کہا اس وقت بھی باہر کی بنی ہوئی اشیاء دبئی کے راستے پاکستان میں آرہی ہیں، اس سے کہیں بہتر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست تجارت کی جائے، اس سے باربرداری کے اخراجات میں کمی ائے گی اور افراط زر کم کرنے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برامداد بڑھانے کی ضرورت ہے، اس لیے اس خطے میں جسے سارک کہا جاتا ہے ان ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے سے بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، کاروبار اور سیاست دو الگ الگ شعبے ہیں بھارت نے ہائی ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے اور پاکستان کو اس کا  فائدہ اٹھانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر انرجی ایک بہت بڑا ایشو بن چکی ہے، گیس اور بجلی کی لاگت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کاروبار یا صنعت کو چلانا اب اسان نہیں رہا، مسابقت کی دوڑ میں پیچھے ہو رہے ہیں،، پاکستان کی برامدات گزشتہ کئی برسوں سے 30 ارب ڈالر تک محدود ہو چکی ہے، ان کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، ایف پی سی سی ائی نے 2030۔ تک  کا ویژن تیار کیا ہے، جنوبی ایشیا میں بجلی کی قیمت چھ سینٹ ہے، جب کہ پاکستان میں یہ 14 سینٹ ہے، بجلی کی قیمت نو سینٹ مقرر کرنے کا ایک فیصلہ ہوا ہے اس بارے میں ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اسے جلد از جلد جاری کیا جائے، انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی ائی نے سابق وفاقی وزیرتجارت کی صدارت میں ایک تھنک ٹینک کام قائم کیا ہے، سابق وفاقی وزیر تجارت کے دور میں ملکی تجارت پڑی ہم ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے، انہوں نے کہا بجٹ سازی کا عمل ہو رہا ہے، بجٹ بناتے ہوئے جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے وہ یہ ہے کہ مقامی صنعتوں کو تحفظ دیا جائے جو چیزیں پاکستان میں تیار ہوتی ہیں ایسی چیزوں کی درآمد پر ڈیوٹی کو بڑھایا جائے، ایف پی سی سی ائی نے ایک شیڈو وفاقی بجٹ تیار کیا ہے جو پبلک کیا جائے گا وفاقی حکومت اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، ایف پی سی ائی پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام دینے کے لیے کام کرے گی دریں اثنا صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے تاجر دوست ٹیکس سکیم اور پراپرٹی ٹیکس میں چار سو فیصد تک اضافے کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹیکسز ریشنل ہونے چاہیں، حکومت کی ترجیح نئے ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا  ہو تو معاشی صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہوجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں