ایف آئی اے نے غلط کیس بنایا اور ٹرائل کورٹ نے بھی غلط سزا دی سائفر کیس میں جج کے ریمارکس

اسلام آباد: چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس میں ریمارکس دیے کہ ہم نے کیس کا جائزہ لیا ہے.بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے اپنے بیانات میں کچھ بھی ڈسکلوز نہیں کیا۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا سائفر کبھی بھی عوامی جلسے میں نہیں پڑھا گیا، جب کیس دو مرتبہ ریمانڈ بیک ہو کر جائے تو جج کو احتیاط سے کیس سننا چاہیے. شاہ محمود قریشی کے بطور ملزم بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا تھا. ملزمان کے حتمی بیان کے بعد بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2-2 سوال پوچھے گئے، اور سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے ہمیں جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر فارن اسٹیٹ نے کوئی جارحانہ بات کی ہے تو وہ آپ بتائیں گے نہیں، کیوں کہ وہ بات سائفر میں آئی ہے۔ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟ اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیر اعظم اسے سامنے لا سکتا تھا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا دونوں اپیل کنندگان سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی. کسی ملزم سے سائفر کی کاپی برآمد نہیں ہوئی. ایف آئی اے نے غلط کیس بنایا اور ٹرائل کورٹ نے بھی غلط سزا دی۔ آج تک سائفر کے الزام پر کسی پر کیس نہیں بنا اور سزا نہیں ہوئی۔ ٹرائل کورٹ جج نے فیصلے میں کبھی سیاسی مقاصد کا بتایا اور کبھی اکانومی کا ذکر کر دیا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہاتھی آپ نکال چکے دم بھی نکال دیں. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے آپ نے 10 سال جو سزا ہوئی اس کو ڈی مولش کرنے کی کوشش کی ہے. ہم نے نوٹ کر لیا ہے، آپ نے اچھے سے دلائل دیے، ایک چیز آپ کے پاس آتی ہے وہ واپس نہیں کی جاتی. سائفر کی کاپی واپس نہ دینے پر 2 سال کی سزا سنائی گئی. آپ نے سائفر کاپی واپس دینی تھی جو واپس نہیں دی گئی، اس پر کل دلائل دیں۔ سلمان صفدر نے کہا صرف بانی پی ٹی آئی نے نہیں دینے تھے باقی لوگوں کے پاس بھی کاپیاں تھیں جو پرچہ درج ہونے کے بعد واپس آئیں۔ سائفر اپیلوں پر مزید سماعت کل 4 اپریل کو ہوگی۔

بعد ازاں بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عدالتی کارروائی میں ٹرائل کورٹ کے جج کا فیصلہ پڑھا گیا.جج صاحب نے سائفر کیس کو اکنامی سے منسلک کر دیا تھا. سرکار کے کیس کا جب خلاصہ ہوا تو وہ سارا دھڑام سے آ گرا ہے، ججز بھی حیران تھے کہ اس فیصلے میں اکنامی کا ذکر کہاں سے آ گیا. اب حتمی دلائل شروع ہو چکے ہیں.جج صاحب نے کہا ہاتھی تو نکل چکا ہے پیچھے اس کی دم رہتی ہے، دم نکلنے کا مطلب کہ ہم نے پراسیکیوشن کا کیس اچھی طرح جھنجوڑ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں