سینیٹ کی 19 خالی نشستوں پر انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم ووٹوں کی گنتی جاری

اسلام آباد:  پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی 19 خالی نشستوں پر انتخابات کیلئے قومی، پنجاب اور سندھ اسمبلی میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا جبکہ خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کر دیئے گئے۔پولنگ کا آغاز صبح 9 بجے ہوا جو شام 4 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا، سندھ، پنجاب اور قومی اسمبلی کے اراکین نے حق رائے دہی استعمال کیا۔قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف سمیت اراکین اسمبلی نے اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی درخواست پر سینیٹ انتخابات ملتوی کر دیئے۔

قبل ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کیلئے درخواست جمع کرائی  گئی تھی۔انتخابات ملتوی کرانے کی درخواست اپوزیشن کے احمد کریم کنڈی نے صوبائی الیکشن کمشنر کے پاس جمع کرائی .جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ہمارے 25 ارکان سے ابھی تک حلف نہیں لیا گیا. الیکشن ملتوی کیا جائے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے اپوزیشن کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کیا .جس کے بعد صوبے میں سینیٹ کا الیکشن تاحکم ثانی ملتوی کردیا گیا۔سینیٹ الیکشن میں 18 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو چکے اور آج 35 سے زائد  امیدوار مدمقابل ہیں۔سینیٹ کی 29 جنرل، 8 خواتین ، 9 ٹیکنو کریٹ یاعلماء اور 2 غیر مسلم کی نشستوں پر امیدوار آمنے سامنے ہیں۔اسلام آباد سے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن)کے اسحاق ڈار، جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن امیدوار ہیں. پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ انصر محمود ٹیکنوکریٹ نشست پر اور فرزند حسین شاہ جنرل نشست پر انتخاب لڑیں گے۔

بلوچستان اسمبلی سے تمام 11 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی سے 7 جنرل نشستوں پر بھی امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

سندھ سے جنرل نشستوں پر 12 ، خواتین نشست پر 3 ، ٹیکنوکریٹ پر 4 اور اقلیتی نشست پر 2 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

پنجاب سے خواتین کی نشستوں پر4، ٹیکنوکریٹ اور علماء کی نشست پر3 اور اقلیتی نشست پر 2 امیدوار مدمقابل ہیں۔

پنجاب اسمبلی آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور چوہان کا کہنا تھا کہ 356 ارکان کی ووٹر لسٹ موصول ہو چکی ہے. سینیٹ انتخابات کی پولنگ خفیہ رائے شماری سے ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ارکان اسمبلی کے موبائل فون لے کر جانے پر پابندی ہو گی. ارکان اسمبلی اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کریں۔

سینیٹ انتخابات کیلئے چار مختلف رنگوں میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں ، جنرل نشستوں کیلئے سفید پیپرز، ٹیکنوکریٹ نشستوں کیلئے سبز بیلٹ پیپر ہیں جبکہ خواتین کی نشستوں کیلئے گلابی اور اقلیتی نشستوں کیلئے پیلے رنگ کے بیلٹ پیپرز استعمال ہوں گے۔سینیٹ الیکشن کے سلسلے میں ممبرانِ قومی اسمبلی کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہدایت نامہ جاری کر دیا۔ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بال پوائنٹ کے ذریعے بیلٹ پیپرز پر ترجیحات درج کرنا ہوں گی. ترجیحی امیدوار کے نام کے سامنے 1 جبکہ دوسرے امیدوار کے سامنے 2 لکھنا ہوگا۔جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ترجیح صرف انگریزی یا اردو میں درج کرنا ہو گی. اردو اور انگریزی کو ملا کر لکھنے سے ووٹ مسترد ہو گا۔ہدایت نامے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہندسہ 1 ایک سے زائد ناموں کے سامنے درج ہونے سے ووٹ مسترد ہو گا، کسی امیدوار کے نام کے سامنے ہندسہ 1 کے ساتھ کوئی دوسرا ہندسہ درج نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں