انٹر کے امتحانات مئی کے آخر کے بجائے اپریل کے آخر میں لیے جائیں، سپلا

فوٹو فائل

سندھ پروفيسرز اينڈ ليکچررز ايسوسی ايشن (سپلا) نے کہا ہے کہ ہم متعدد بار اعلیٰ حکام تک اپنی بات پہنچاتے رہے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا انعقاد شدید گرمی کے بجائے معتدل موسم میں ہونے چاہئیں۔

سپلا کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل شاہ جہاں پنہور اوردیگر مرکزی رہنماؤں سيد عامر علی شاہ، الطاف کھوڑو، مشتاق پھلپوٹو، نجیب لودھی، پروفیسر جہاں اور سید جڑيل شاہ نے مشترکہ میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں ہم تحریری تجاویز بھی دے چکے ہیں کہ اپریل کے آواخر میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات منعقد کیے جائیں کیوں کہ مئی کے مہینے میں موسم انتہائی گرم ہوتا ہے، مگر اسٹیئرنگ کمیٹی کی بھی سب کمیٹی نے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات مئی کے آخری ہفتے میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ 

سپلا کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ مئی کے آخر میں امتحانات شروع کرنے کا مطلب امتحانات شدید گرمیوں کے مہینوں جون اور جولائی میں ہوں گے۔

بیان میں رہنماؤں نے اس عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال شدید گرمی کے موسم میں امتحان لینے کے فیصلے نے خیرپور میرس کے ایک طالب علم کی امتحان کے دوران جان لے لی۔ اس لیے حکام  بالا طالب علموں پر رحم کریں۔ 

سپلا کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے سی کمروں میں بیٹھے ہوئے افسران امتحانات کے دوران کسی امتحانی مرکز میں بالخصوص دوپہر کی شفٹ میں ایک گھنٹہ امتحانی کمرے میں گزاریں تو شاید ان کو احساس ہو کہ لوڈ شیڈنگ، حبس اور شدید گرمی میں امتحان دینا تو اپنی جگہ وہاں بیٹھنا خود کتنا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ 

سپلا کے رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ جون اور جولائی موسم گرما کی چھٹیاں بھی ہوتی ہیں لہٰذا کالج اساتذہ کی 31 مئی کے بعد امتحانی مراکز پر دستیابی متاثر ہوگی اور کسی بھی استاد کو اپنی چھٹیاں قربان کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ 

ان رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ اور سیکریٹری کالجز صدف انیس سے پر زور اپیل کی کہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور امتحانات کو اپریل کے آخری ہفتے یا زیادہ سے زیادہ مئی کے پہلے ہفتے میں کروانے کے احکامات جاری کریں۔ 

سپلا کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن نے محکمہ تعلیم اسکو ل سندھ کو اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے سپلا کی نمائندگی کا خط بھی جاری کیا ہے مگر تاحال سپلا کو اسٹیئرنگ کمیٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا جو کہ قابلِ افسوس عمل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں