انتخابی فوائد کا حصول: مودی حکومت نے متنازع شہریت قانون پر عملدر آمد شروع کر دیا

بھارت کے مرکزی سیکریٹری داخلہ اجے کمار بھالہ ایک خاتون کو بھارتی شہریت کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں(تصویر سوشل میڈیا)۔

مودی حکومت نے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایک اور اقدام کیا ہے، انتخابات کے دوران متنازع شہریت قانون پر عملدر آمد شروع کر دیا۔ 

نئی دہلی سے خبر ایجنسی کے مطابق مودی حکومت نے متنازع شہریت ایکٹ کے تحت 14 غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دے دی۔ 

بھارتی وزارت داخلہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دستاویزات تصدیق کے بعد 14 غیر ملکی پناہ گزینوں کو شہریت دے کر حلف وفاداری لیا گیا۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے انتخابات سے چند ہفتے پہلے مارچ میں متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ کیا تھا۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2014 سے پہلے پڑوسی ممالک سے آئے ہوئے غیر مسلموں کو بھارتی شہریت دی جا رہی ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلمان گروپوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے متنازع قانون کو مسلم دشمن قرار دیا ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے 2019 میں شہریت کے متنازع قانون کی منظوری دی تھی۔ جس کی منظوری کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور فسادات میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں